اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صہیونی روزنامہ ہارٹزنے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سعودی عرب تیل کے پیسوں سے اپنے اتحادیوں کی منہ بھرائی کرتا ہے، اسلحے خریدتا ہے اور ملک میں مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے اسے استعمال کرتا ہے اور گرچہ اس نے ملک میں عظیم بنیادی تنصیبات کی تعمیرات انجام دی ہیں اور ماڈرن یونیورسٹیاں قائم کی ہیں مگر اس کے باوجود وہ تیسری دنیا کا ہی ایک ملک ہے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے سعودی نظام حکومت کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے معاشی اصلاحات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر مستقبل میں بھی کسی اچھے نتیجے کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ خود سعودی عرب بھی وسیع پیمانے پر تیل استعمال کرتا ہے۔ دوسری طرف سے سعودی عرب کی آبادی بھی بڑھ رہی ہے اور سعودی حکام نے نئی نئی غیرضروری ملازمتیں بھی دینے کا عوام سے وعدہ کیا ہے تاکہ انہیں یہ باور کرایا جاسکے کہ سعودی حکومت اپنے شہریوں کی ترقی اور ان کے رفاہ کے لیے فکرمند ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کے وژن 2030 میں صرف اہداف پر بحث کی گئی ہے، اسے کیسے حاصل کیا جائیگا، اس کا کیا طریقہ کار ہوگا، اس پر کوئی توجہ نہیں کی گئی ہے۔
مذکورہ روزنامے نے لکھا کہ سعودی عرب کے پاس برآمد کرنے کے لیے تیل کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں کہ وہ اس کی بنیاد پر اپنی معاشی عمارت کھڑی کرسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲